کسان تحریک گجرات تک لے جانے کا اعلان، کسی سمجھوتے کے بغیر گھر نہیں لوٹنے کسان لیڈران کا عزم
نئی دہلی،13؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی کی سرحدوں پر جاری کسانوں کے احتجاج کو ملک گیر میں بدلنے کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے کسان لیڈر راکیش ٹکیت اب مزید سرگرم ہوتے نظر آرہے ہیں۔اتوار پیر اور منگل کو وہ ہریانہ، راجستھان اور مہاراشٹر میں 7؍ کسان ریلیوں سے خطاب کریں گے۔اس کا مقصدکسانوں کے احتجاج کیلئے ملک گیر حمایت حاصل کرنا اور پورے ملک کے کسانوں کو ا س تحریک سے جوڑنا ہے۔
میٹنگوں کا سلسلہ 23؍ فروری تک جاری رہےگا: مہاراشٹر، ہریانہ اور راجستھان میں ۳؍ دنوں میں ۷؍ مہا پنچایتوں سے خطاب کے بعد بھی راکیش ٹکیت کا ملک کے مختلف حصوں میں کسانوں کے احتجاج میں شرکت کرنے کا سلسلہ جاری ہےگا۔ سمیوکت کسان مورچہ نے کسانوں کے احتجاج پورے ملک میں پھلانے اور گاؤں گاؤں تک پہنچانے کا جوا علان کیا ہےاس کے تحت یہ میٹنگیںکم از کم ۲۳؍ فروری تک جاری رہیں گی۔ یہ مہاپنچایتیں مہاراشٹر کے آکولہ میں، ہریانہ کے کرنال، روہتک ،سرسا اور حصار میں جبکہ راجستھان کے سیکر میں منعقد ہوں گی۔
گجرات کو بھی ’’آزاد‘‘ کرانے کا اعلان، مودی کو چیلنج: بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے لیڈر راکیش ٹکیت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کسانوں کی اس تحریک کو گجرات بھی لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے مودی کی آبائی ریاست کو ’’آزاد‘‘ کرانے کی بات کی ہے۔ آگے کی حکمت عملی کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ کسانوں کے اس مظاہرہ کو پورے ملک میں پھیلایا جائےگااور دہلی کی سرحدوں پر خیمہ زن کسان اس وقت تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گےجب تک کہ ان کے مطالبات منظور نہیں ہوجاتے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے ٹکیت نے کہا ہے کہ گجرات دنیا سے منقطع ہے، اسے بھی آزاد کرانا ہے۔ الور کے جھالاٹالہ میں منعقدہ کسان کانفرنس سے خطاب میں انہوں نےکہا ہے کہ’’ہم پورے ملک میں جائیں گے،گجرات کو بھی آزاد کرواناہے، گجرات ابھی آزاد نہیں ہواہے، ہم گجرات بھی جائیں گے، وہاں کیلئے تاریخ طے کی جارہی ہے۔
کسی سمجھوتے کے بغیر گھر نہیں جائیں گے: ٹکیت : راکیش ٹکیت نے گجرات میں بھی کسانوں کی تحریک کو مضبوط کرنے کا اعلان کرکے بعد ایک بار پھر زوردیا کہ کسان کسی نتیجے پر پہنچے بغیر گھر نہیں جائیں گے۔ بہرحال ان کے اس بیان کو موقف میں نرمی کے طور پر بھی دیکھا جارہاہے کیوں کہ اس سے قبل کسان لیڈروں کا زور ہمیشہ اس بات پر رہا ہے کہ قانون واپسی کے بغیر گھر واپسی نہیں ہوگی۔ حکومت شروع سے کسانوں سے کہہ رہی ہے کہ وہ قوانین کی پوری طرح منسوخی کے علاوہ دیگر امکانات پر غور کریں۔انہیں قوانین کو ۱۸؍ مہینے تک نافذ نہ کرنے کی بھی پیشکش کی جاچکی ہے۔
بھوک پر تجارت نہ کرنے دینے کا عزم: راکیش ٹکیت نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کے کسان بھوک پر تجارت نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جولوگ اس تجارت کے خواب دیکھ رہے ہیں انہیں کسان ملک چھوڑنے پر مجبور کردیں گے۔